Hazrat Uzair حضرت عزیر علیہ السلام
حضرت عزیرؑ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نہایت جلیل القدر نبی اور عالمِ دین تھے۔ آپؑ تورات کے بڑے عالم تھے اور اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلانے اور دین کی تعلیم دینے میں مشغول رہتے تھے۔ اس زمانے میں بنی اسرائیل پر سخت وقت آیا ہوا تھا۔ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہوا، دشمنوں نے ان کے شہر تباہ کر دیے، گھروں کی دیواریں گر گئیں اور بستیاں ویران ہو گئیں۔
ایک دن حضرت عزیرؑ سفر کے دوران ایک ایسی ہی بستی سے گزرے جو مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی۔ ہر طرف کھنڈرات تھے، چھتیں گری ہوئی تھیں، دیواریں زمین بوس تھیں اور انسانی زندگی کا کوئی نشان باقی نہ تھا۔ یہ منظر دیکھ کر آپؑ نہایت حیران ہوئے اور دل میں سوچا:
“اللہ تعالیٰ اس بستی کو اس کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟”
یہ سوال کسی شک کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو سمجھنے اور دیکھنے کی خواہش تھی۔
حضرت عزیرؑ اپنے گدھے پر سوار تھے اور ساتھ کھانے پینے کا سامان بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا عملی مظاہرہ دکھانے کے لیے حضرت عزیرؑ پر اسی جگہ موت طاری کر دی۔ وہ وہیں زمین پر لیٹ گئے اور وقت گزرتا رہا۔ دن مہینوں میں، مہینے سالوں میں بدلتے گئے یہاں تک کہ سو سال گزر گئے۔
سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیرؑ کو دوبارہ زندہ فرمایا۔ جب آپؑ بیدار ہوئے تو انہیں یوں محسوس ہوا جیسے وہ تھوڑی دیر کے لیے سوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال فرمایا:
“تم یہاں کتنی دیر ٹھہرے رہے؟”
حضرت عزیرؑ نے جواب دیا:
“میں ایک دن یا اس سے بھی کم وقت رہا ہوں۔”
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“نہیں، تم یہاں پورے سو سال رہے ہو۔ اب اپنے کھانے پینے کو دیکھو، وہ بالکل خراب نہیں ہوا، اور اپنے گدھے کو دیکھو۔”
حضرت عزیرؑ نے دیکھا کہ ان کا کھانے پینے کا سامان بالکل صحیح حالت میں تھا، لیکن گدھا مر کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیرؑ کی آنکھوں کے سامنے ایک عظیم منظر دکھایا۔ گدھے کی ہڈیاں اپنی جگہ پر جمع ہونے لگیں، پھر ان پر گوشت چڑھایا گیا، پھر اس میں جان ڈال دی گئی اور وہ زندہ ہو کر کھڑا ہو گیا۔
یہ حیرت انگیز منظر دیکھ کر حضرت عزیرؑ پر اللہ تعالیٰ کی قدرت پوری طرح واضح ہو گئی۔ آپؑ بے اختیار پکار اٹھے:
“میں جان گیا کہ بے شک اللہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔”
اس کے بعد حضرت عزیرؑ اپنی بستی کی طرف واپس لوٹے۔ سو سال کے عرصے میں دنیا بہت بدل چکی تھی۔ لوگ، نسلیں اور حالات سب تبدیل ہو چکے تھے۔ کوئی بھی انہیں پہچان نہ سکا۔ بعد میں جب واقعات سامنے آئے تو لوگوں کو یقین آیا کہ یہ واقعی حضرت عزیرؑ ہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر زندہ کیا تھا۔
یہ واقعہ قرآنِ مجید (سورۃ البقرہ، آیت 259) میں بیان ہوا ہے تاکہ انسان یہ سمجھ سکے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مردوں کو زندہ کرنا، بستیوں کو آباد کرنا اور ہر چیز کو دوبارہ پیدا کرنا بالکل آسان ہے۔
سبق:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کامل یقین رکھنا چاہیے۔ موت کے بعد زندگی، قیامت، اور دوبارہ جی اٹھنا سب حق ہے اور اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔






